سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بلڈنگ ریگولیشنز میں ترمیم کرکے رہائشی علاقوں میں کمرشل تعمیرات اور سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے۔
ماہرین اور شہریوں نے اس اقدام کو متنازع اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے مترادف قراردیا ہے۔
کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز2002میں ترمیم سے 60،80،100اور150 فٹ چوڑے روڈ پر پلاٹس کو تجارتی اور تفریحی مقاصد کیلیے استعمال کیا جاسکے گا۔
چیئرمین آباد کا کہنا ہے کہ ترمیم سے کراچی اور سندھ کے علاقوں کو نقصان پہنچے گا، رہائشی علاقوں میں کیفے، شیشہ بار، شادی ہال کھل جائیں گے، کمرشل ایکٹیویٹی ہونے سے ٹریفک کا دباؤ بڑھے گا۔ اسے نہ روکا گیا تو مسائل مزید بڑھیں گے۔
دوسری جانب اربن پلانر بھی اسے شہر کے انفرا اسٹرکچر کی تباہی قرار دے رہے ہیں جبکہ شہری ایس بی سی اے کے فیصلے پر حیران ہیں۔
سماجی ماہرین کا کہنا تھا کہ اب جلد شہر کے رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی۔


