For Ads contact updatekarachi54@gmail.com
For Ads contact updatekarachi54@gmail.com
advertise 2advertise 1

پورشن مافیا کیخلاف کریک ڈائون ،متعدد گرفتاریاں،مقدمات درج

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف دائرہ کار بڑھاتے ہوئے ضلع وسطی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پولیس نے مشترکہ طور پر “پورشن مافیا” کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا ہے۔

اس کارروائی میں 19 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ 13 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جو شہر میں بغیر منظوری کے غیر قانونی عمارتیں، پورشن اور فلیٹس تعمیر کر کے بیچنے کے دھندے میں ملوث تھے۔

ضلع وسطی کے مختلف علاقوں نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلبرگ میں ایسی درجنوں عمارتیں تعمیر کی جا رہی تھیں، جن کے نہ صرف نقشے منظور نہیں تھے بلکہ ان میں کمرشل جگہوں کو رہائشی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

یہ تعمیرات عموماً کمزور ڈھانچے، ناکافی فائر سیفٹی، اور بغیر سیوریج و پارکنگ پلان کے بنائی جاتی ہیں، جو مستقبل میں انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔پولیس اور ایس بی سی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں چند ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود کو پراپرٹی ایجنٹس یا بلڈرز ظاہر کرتے تھے اور کچی دستاویزات یا جعلی فائلوں پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کرتے تھے۔

- Advertisement -
advertise 2advertise 1

یہ گروہ “پانچ سالہ لیز” یا “پروجیکٹ ریجسٹریشن نمبر” کے جعلی دعوے کر کے عوام کو جھانسہ دیتا رہا ہے۔تین مختلف مقدمات ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں، جن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس کی خلاف ورزی، جعلسازی، اور عوام کو دھوکہ دینے کی دفعات شامل ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے جعلی نقشے، غیر قانونی ایگریمنٹس، اور بلڈر فائلز بھی برآمد ہوئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے نے مزید 20 سے زائد مشکوک عمارتوں کی فہرست تیار کر لی ہے، جن پر جلد چھاپے مارے جائیں گے۔

علاوہ ازیں، ایک خصوصی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جو غیر قانونی تعمیرات، نقشہ سازی کی خلاف ورزیوں اور جعلی الاٹمنٹ فائلوں کی جانچ کرے گی۔

ماہرین کے مطابق کراچی میں “پورشن مافیا” کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جنہیں اکثر سیاسی سرپرستی، سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت اور قانون کے کمزور نفاذ کی وجہ سے تحفظ حاصل رہا۔ تاہم حالیہ اقدامات اس بات کا عندیہ ہیں کہ کراچی میں تعمیراتی ضابطوں کی بحالی اور شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر نئی سنجیدگی پیدا ہو رہی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے