وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ردِعمل کی پالیسی سازی سے نکل کر دوراندیش، اصلاحات پر مبنی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی اقتصادی سمت کے ازسرِنو تعین کے لیے ساختی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک شراکت داریوں پر توجہ دی جائے گی،پاکستان میں کارپوریٹ منافع میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، حکومت عالمی سفارتی کامیابیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مضبوط ایکو سسٹم فراہم کرتی رہے گی،24 سرکاری ادارے بیچ دیں گے، پی آئی اے کی نجکاری رواں سال ہی ہوجائے گی۔
بدھ کو وزیرِ خزانہ نے ”دی فیوچر سمٹ” سے خطاب، معیشت میں پائیدار اصلاحات، آبادی و موسمیاتی چیلنجز پر فوری حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استحکام دینے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور طویل المدتی ترقی کی سمت طے کرنے کے لیے ردِعمل پر مبنی پالیسیوں کے بجائے اصلاحات پر مبنی، آگے بڑھنے والی سوچ اپنانا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور حکمتِ عملی پر مبنی شراکت داریوں کے ذریعے ملکی معیشت کا رخ درست سمت میں لے جانے کے لیے پْرعزم ہے۔
انہوں نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن اور ریاض کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت نے توقعات سے بڑھ کر لچک دکھائی ہے، جس کا سبب مختلف ممالک میں اصلاحاتی اقدامات اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتوں کے کردار کو محدود کر کے نجی شعبے کی قیادت میں ترقی اور مصنوعی ذہانت و ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداواریت بڑھانے پر اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے۔پاکستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں میکرو اکنامک استحکام حاصل ہو چکا ہے، جس کی عالمی سطح پر تصدیق بھی ہوئی ہے۔
بڑی ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کا معاشی آؤٹ لک بہتر کیا ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت دوسرا کامیاب ریویو مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ‘معاشی استحکام منزل نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے، جو پائیدار سرمایہ کاری اور طویل المدتی ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے ابتدائی نو مہینوں میں پاکستانی کمپنیوں کے منافع میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ او آئی سی سی آئی کے تازہ سروے کے مطابق اب 73 فیصد سی ای اوز پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں سمجھتے ہیں، جو پہلے 61 فیصد تھے۔
یہ اعداد و شمار سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور معیشت کی درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان اس وقت سازگار عوامل، معاشی استحکام اور جغرافیائی امکانات کے امتزاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو تجارت اور سرمایہ کاری میں بدلنے کی پوزیشن میں ہے۔
حکومت نجی شعبے کی قیادت میں معدنیات، آئی ٹی، زراعت، فارماسیوٹیکل اور بلیو اکانومی جیسے کلیدی شعبوں میں سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گوگل کا پاکستان میں دفتر کھولنے اور ملک کو تکنیکی و برآمداتی مرکز بنانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور ٹیکنیکل مہارتوں سے لیس کرنے پر زور دیا تاکہ وہ کوڈنگ، بلاک چین اور مصنوعی ذہانت سے متعلق شعبوں میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔
ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اب حکمت عملی نہیں بلکہ عمل درآمد کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
انہوں نے ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں کی نجکاری، پبلک فنانس مینجمنٹ، سرکاری اداروں کے حجم میں کمی، پنشن اصلاحات اور قرضوں کی ادائیگی کے شعبوں میں پیش رفت پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولی میں لیکجز روکنے کے لیے اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ اور انوائسنگ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں، 9 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان شامل ہوئے ہیں اور عالمی بینک نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نجکاری کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔
ایک بڑی اماراتی کمپنی نے حال ہی میں ایک پاکستانی بینک حاصل کیا ہے جبکہ پی آئی اے اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ٹرانزیکشنز پر کام جاری ہے۔ اسی طرح وفاقی وزارتوں و محکموں کے سائز میں کمی، خسارے میں جانے والے اداروں کی بندش اور نئے سرکاری ملازمین کے لیے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن اسکیم کی طرف منتقلی پر بھی عمل ہو رہا ہے۔”کورس کریکشن” کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو جہاں اصلاحات کے راستے پر ثابت قدم رہنا ہے، وہیں دو اہم مسائل آبادی میں تیز رفتار اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی پر فوری قومی سطح کی حکمتِ عملی درکار ہے۔
انہوں نے آبادی کے دباؤ، بچوں کی غذائی کمی اور تعلیمی پسماندگی جیسے چیلنجز پر قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا اور بتایا کہ عالمی بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت 2 ارب ڈالر سالانہ کی ماحولیاتی فنانسنگ کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اقتصادی اصلاحات کے تسلسل، ملکی معیشت کی مضبوطی، اور پائیدار و انسانی ترقی پر مبنی اصلاحاتی ایجنڈے کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔


