کراچی (ویب ڈیسک): سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور خاندان کے 12 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے کیس میں این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کو درخواست گزاروں کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے بیان کے بعد تفتیشی افسر سے ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی
سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے مذہبی منافرت کے الزامات کے تحت ازخود کارروائی کرنے پر این سی سی آئی اے پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے ایسا کیا کیا تھا جس پر تحقیقات شروع کی گئی؟ تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار سابق صدر ہیں جنہوں نے قابل اعتراض بیان دیا، ویڈیو وائرل ہونے اور عوامی رد عمل کے بعد کارروائی شروع کی۔
سماعت کے دوران جسٹس مبین لاکھو نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے تحریری طور پر شکایت درج کروائی؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ کسی نے شکایت نہیں، عوامی ردعمل پر ازخود کارروائی کی۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ کیا بیان اتنا خوفناک تھا کہ لوگوں کی چیخ و پکار این سی سی آئی اے تک پہنچی اور انہوں نے سوموٹو کا اختیار استعمال کیا، پوری فیملی کے بینک اکاؤنٹ کیوں بند کئے؟ کیا انکے بینک اکاؤنٹ سے منی لانڈرنگ یا فنانشل ٹیررازم ہورہی تھی؟ ہمیں قانون بتائیں کس قانون کے تحت انکے بینک اکاؤنٹ بند کئے ؟ کیا درخواست گزار کسی قسم کی ٹرانزیکشن نہیں کرسکتے؟ تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا کہ بینک اکاؤنٹ میں پیسے جمع ہوسکتے ہیں، نکالے نہیں جاسکتے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ سب کے بینک اکاؤنٹ بلاک ہیں تو روزمرہ کے اخراجات کیسے چلاتے ہونگے؟ این سی سی آئی اے بغیر شکایت کے کسی کے خلاف کیسے انکوائری کرسکتا ہے؟ عدالت میں اتنی بڑی تقریر کررہے ہیں، ہمیں قانون بتائیں جس کے تحت اکاؤنٹ بلاک کئے۔
تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار ملک سے باہر ہیں، نوٹس کے باوجود بیان ریکارڈ کروانے کے لئے پیش نہیں ہورہے۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کا بیٹا اور بہو عدالت میں موجود ہیں اور اپنا بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں، ڈاکٹر عارف علوی اور انکی اہلیہ اس وقت دبئی میں ہیں، قانون انکو استثنیٰ دیتا ہے لیکن وہ کسی قسم کا استثنیٰ نہیں چاہتے، ڈاکٹر عارف علوی کے کلینک سے حاصل آمدنی اکاؤنٹ میں آتی ہے جو استعمال نہیں کرسکتے۔ عدالت نے این سی سی آئی اے کے تفتیشی افسر کو درخواست گزاروں کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے بیان کے بعد تفتیشی افسر سے ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی


