کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) کورنگی کریک میں آئل ریفائنری کے قریب لگنے والی زیر زمین پراسرار آگ کے حوالے سے سامنے آنے والی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ نے ماحولیاتی خطرات کی گھنٹی بجا دی ہے۔ زیر زمین پانی اور مٹی کے کیمیائی تجزیے میں بینزین، ٹولوئن اور ٹیٹرا کلورو ایتھین جیسی زہریلی گیسوں اور بھاری دھاتوں کی خطرناک مقدار کا انکشاف ہوا ہے، جس نے حکام، ماہرین اور ماحولیاتی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر کورنگی مسعود بھٹو نے تصدیق کی کہ زمین سے اٹھنے والے شعلوں اور ابلتے پانی کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے کیے گئے تجزیے میں انتہائی خطرناک کیمیکلز کی موجودگی پائی گئی ہے، جن میں بینزین (19 مائیکروگرام فی لیٹر)، ٹولوئن (15 مائیکروگرام)، اور ٹیٹرا کلورو ایتھین (33 مائیکروگرام) شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ان کیمیکلز کی عالمی سطح پر منظور شدہ حد بالترتیب 5، 5 اور 5 مائیکروگرام فی لیٹر ہے۔اسی طرح، لوہے، مینگنیز، آرسینک اور لیڈ جیسی دھاتوں کی مقدار بھی ماحولیاتی تحفظ کے معیارات سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ لوہے کی سطح 181.6 ملی گرام فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو معمول کی حد سے سینکڑوں گنا زیادہ ہے۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ آگ پی پی ایل (پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ) کے ایک بورہول کی کھدائی کے دوران لگی، جو دراصل ایک بلند و بالا تعمیراتی منصوبے کے لیے کی جا رہی تھی۔ اس دوران زمین کی تہہ میں موجود ممکنہ ‘شیل’ یا قدرتی رکاوٹ ٹوٹنے کے بعد گیسیں خارج ہونا شروع ہوئیں، جنہوں نے آگ بھڑکا دی۔ڈی سی کورنگی کے مطابق ابتدائی طور پر ماہرین کا خیال تھا کہ یہ ‘شیلو گیسز’ (کم گہرائی والی گیسیں) ہیں جو خود بخود ختم ہو جائیں گی، اسی لیے آگ بجھانے کی کوشش روکی گئی تھی۔ تاہم اب جب کہ آگ آٹھ روز گزرنے کے بعد بھی بدستور جل رہی ہے، پی پی ایل نے آگ بجھانے اور گیس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے دوبارہ سرگرمی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان نے تصدیق کی کہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹ ان کے ساتھ شیئر کی گئی ہے، اور اس میں خطرناک کیمیکلز کے ارتکاز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین اس معاملے کو ایک ممکنہ ماحولیاتی اور انسانی صحت کے بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب قریبی آبادی یا زیر زمین پانی کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں۔ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان زہریلی گیسوں کا اخراج انسانی صحت، مٹی کی زرخیزی اور قریبی آبی ذخائر کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے، اور حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ٹی پی ایل پراپرٹیز، جو اس علاقے میں تعمیراتی منصوبے پر کام کر رہی ہے، نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ گیس کی موجودگی کا سامنا “ٹیسٹ ویل” کھودنے کے دوران ہوا، اور ابتدائی طور پر اسے “بایوجینک میتھین” قرار دیا گیا، جو قدرتی طور پر پیدا ہونے والی گیس ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ ماحولیاتی اور سماجی اثرات سے متعلق تمام ضوابط کی پابندی کر رہی ہے، اور ان کا مقصد ذمہ دارانہ ترقی ہے۔مبصرین اور ماحولیاتی کارکنان اس واقعے کو ایک ممکنہ صنعتی غفلت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کھدائی سے قبل مکمل ماحولیاتی تشخیص کی جاتی اور احتیاطی تدابیر اپنائی جاتیں تو یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔ کئی سوالات ابھی بھی جواب طلب ہیں: کیا کمپنی نے تمام حفاظتی تقاضے پورے کیے؟ کیا ضلعی انتظامیہ نے وقت پر مداخلت کی؟ کیا متاثرہ علاقے کے باشندوں کو کسی قسم کا تحفظ یا اطلاع دی گئی؟ڈی سی کورنگی کے مطابق اب پی پی ایل ماہرین کے ہمراہ زیر زمین گیس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے سروے کرے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کے ذخائر پانچ کلومیٹر کے دائرے میں کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آگ بجھانے کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔ماہرین زور دے رہے ہیں کہ صرف آگ بجھانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ متاثرہ زمین، پانی اور فضا کی طویل مدتی نگرانی اور بحالی کے اقدامات بھی فوری طور پر شروع کیے جانے چاہئیں۔
کورنگی کریک میں زہریلی گیسوں ،بھاری دھاتوں کی موجودگی کا انکشاف
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔


