سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق فرحان نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن 202 میں کی گئی حالیہ ترامیم جس کے تحت رہائشی پلاٹوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوامی مفادات کے منافی قراردیا ہے اور ان ترامیم کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
فاروق فرحان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ترامیم پیپلزپارٹی کی جانب سے کراچی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے،حالیہ قانون سازی کے ذریعے مخصوص ایمنیٹیز، تفریحی اور رہائشی پلاٹوں کو کمرشل بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اب ایک بار پھر رات کی تاریکی میں ایک اور نوٹیفکیشن جاری کر کے کراچی کے سماجی، تہذیبی اور معاشرتی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میئر کی صورت میں شہر پر ناجائز قبضہ مسلط ہے، سندھ حکومت نے پچھلے 17 سالوں میں اب تک ایک بھی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیا۔