کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر زیر تعمیر بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن منصوبے پر ایک بار پھر تعمیراتی کام تعطل کا شکار ہوگیا ہے،صفورا چورنگی تا پیپلز چورنگی ریڈ لائن منصوبے پر کوئی تعمیراتی کام نہیں کیارہا ہے۔
مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صرف تعمیراتی مشینری اور دیگر سامان کی حفاظت پر معمور پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ موجود ہیں جو کراچی یونیورسٹی کے طلباء کو سڑک پار کرانے یا تعمیراتی سامان کی حفاظت کرنے میں مصروف ہیں گزشتہ ایک ہفتے سے ریڈ لائن منصوبے پر تعمیراتی کام مکمل طور پر روک گیا ہے جبکہ اربوں روپے کا بی آر ٹی منصوبہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے سست روی کا شکار ہے۔
روزانہ یونیورسٹی روڈ پر سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کواذیت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی مصروف ترین شاہراہ یونیورسٹی روڈ پربس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) ریڈ لائن منصوبے پر ایک بار پھر تعمیراتی کام روک گیا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے گزشتہ دورِ اقتدار کے اختتام کے قریب اس منصوبے کو شروع کروایا تھا اور دعوے کیے تھے کہ اِسے ریکارڈ مدت میں تعمیر کر لیا جائے گا تاہم ایسا نہیںہو سکا ہے۔ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی سندھ میں چوتھی بار برسراقتدار آئی تو اس منصوبے کو 2025ء میں مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم ریڈ لائن منصوبہ آئندہ سال2026ء میں بھی مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔
ریڈ لائن 26 کلو میٹر پر مشتمل ہے اور ابھی بھی کئی مقامات ایسے ہیں جہاں زیر تعمیر انڈرپاس اور اوور ہیڈ برج تکمیل کے آخری مراحل میں بھی داخل نہیں ہوسکے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے 3 سال سے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ مستقیل تاخیر کا شکار ہے۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن اور میئر کراچی مرتضی وہاب جو ٹرانس کراچی کے بورڈ آف ڈائریکٹر بھی ہیں ریڈ لائن منصوبے کے مکمل ہونے کی حتمی تاریخ بتانے سے قاصر ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر عالمی اداروں کے اشتراک سے شروع ہونے والا 50 کروڑ ڈالر کا یہ منصوبہ 2024ء میں مکمل ہونا تھا۔
اس منصوبے کی مجموعی لاگت اب 79 ارب روپے سے بڑھ کر موجودہ ایکسچینج ریٹ کے مطابق 139 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ منصوبے کے تحت ملیر ہالٹ سے نمائش تک 26کلومیٹر طویل سڑک بننی ہے۔


