کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ٹینکر سروس معطل کردی گئی جبکہ تمام 7 ہائیڈرنٹس پر ٹینکرز غائب ہوگئے ہیں۔
نارتھ کراچی میں واٹر ٹینکر اور ڈمپر جلنے کے واقعے کے بعد شہر میں واٹر ٹینکر سروس متاثر ہوگئی اور ڈرائیوروں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جس کے باعث کئی واٹرٹینکر مالکان نے اپنے ٹینکر کھڑے کردیے ہیں جس کے باعث شہر میں پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہوگیا ہے۔
مذکورہ واقعے کے بعد واٹر ٹینکر ڈرائیورز اور مالکان میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، واٹر کارپوریشن حکام کے مطابق لانڈھی اور شیرپاؤ ہائیڈرنٹس پر پانی ہی موجود نہیں ہے، نیپا اورصفورہ ہائیڈرنٹس سے ایمرجنسی سروس اور اسپتالوں کو پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
واٹر کارپوریشن حکام کا مزید کہنا ہے کہ بلدیہ، کیماڑی اور سخی حسن ہائیڈرنٹس پر پانی موجود ہے لیکن ٹینکر دستیاب نہیں ہیں۔ جس کے باعث متعدد ٹینکر سروسز معطل کردی گئی ہیں۔
واٹر کارپوریشن حکام کے مطابق واقعے کے بعد کارپوریشن کے ماتحت چلنے والے ٹینکرز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سپلائی معمولی طور پر متاثر ہونا شروع ہوگئی ہے، اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں پانی کی فراہمی مزید دشوار ہو سکتی ہے۔
حکام نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکرز کو سیکورٹی فراہم کی جائے تاکہ سروس بحال ہو سکے۔


