سندھ ہائی کورٹ : جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق تمام درخواستیں خارج کردی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
For Ads contact updatekarachi54@gmail.com
کراچی : سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق تمام درخواستیں خارج کردیں۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، کراچی یونیورسٹی کے وکیل پیش ہوئے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے موقف دیا کہ میں اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے۔ مجھے کبھی کراچی یونیورسٹی کی جانب سے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیئے کہ ہم پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دیکھیں گے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے موقف اپنایا کہ میں اس کیس میں متاثرہ فریق ہوں۔ جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ جس نے کیس فائل کیا ہے وہ وکلا کہاں ہیں؟ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ متاثرہ شخص کو شامل کیئے بغیر کیسے درخواست قابل سماعت ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ یہ درخواست نمٹادی گئی ہے اگر یہ متاثر ہیں تو اپیل فائل کریں۔ جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس میں کہا کہ تمام فریقین اپنی باری پر دلائل دیں درمیان میں مت بولیں۔ بیرسٹر صلاح الدین احمدنے موقف دیا کہ انتظامی آرڈر تھا کہ یہ کیس جسٹس عدنان کریم کے سامنے نہ لگایا جائے۔ 202 اے سب سیکشن فور ایڈمن کمیٹی نے یہ کیس فکس کرنا تھا، آئینی بینچ انتظامی آرڈر کیسے واپس لے سکتا ہے؟ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایک عام پارٹی ہے یہ کیس کراچی یونیورسٹی کا ہے۔ آپ نے کہا کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل سنیں گے مطلب آج ہی فیصلہ کرکے اٹھیں گے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ فاروق ایچ نائیک اب کیس میں نہیں ہیں، اب میں یہ کیس سن سکتا ہوں۔ بیرسٹر صلاح الدین احمد نے موقف دیا کہ جس طرح یہ کیس یہاں لگایا ہے اس سے سنجیدہ خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ عامر نواز وڑائچ ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ کراچی بار کی درخواست میں سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کہا ہمارا اس کیس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بولنے کی کوشش پر کراچی یونیورسٹی کے وکیل نے اعتراض کیا جس پر کمرہ عدالت میں شیم شیم کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ آئینی بینچ یہ کیس نہیں سن سکتا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ آئینی بینچ تمام قسم کے کیسز سن سکتا ہے۔ دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری کی بار بار بولنے کی اجازت لینے کوشش، جسٹس کے کے آغا نے انہیں روک دیا۔ کراچی یونیورسٹی کے وکیل نے موقف دیا کہ آئینی بینچ یہ کیس سن سکتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ آئینی بینچ تمام قسم کے کیسز سن سکتا ہے۔ جسٹس عدنان الکریم نے ریمارکس دیئے کہ یہاں 2 ججز کا معاملہ اسٹیج پر ہے۔ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ آئینی بینچ کے دائرہ اختیار پر اعتراض تحریری طور پر جمع کروایا ہوا ہے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ آئینی بینچ تمام کیسز کی سماعت کرسکتا ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے موقف دیا کہ پہلی بار ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے۔ میرا جرم حلف سے وفاداری بنا دیا ہے۔ وعدہ کیا تھا کہ حلف سے بے وفائی نہیں کرونگا۔ میری ڈگری اصلی ہے، امتحان میں بھی بیٹھا تھا۔ 34 برس بعد جعل سازی کرکے ڈگری متنازع بنا دی گئی۔ میرے خلاف کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ میں نے کسی نے کہنے پر فیصلے نہیں کئے۔ مجھے کم از کم موقع دیا جائے۔ بھلے میرے خلاف فیصلہ دیں لیکن سماعت کو موقع دیا جانا چاہیئے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ میرے اوپر اعتراضات کا ذاتی طور پر فیصلہ کرونگا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے موقف دیا کہ میں نے اپنے حلف کی پاسداری کی ہے۔ کمرہ عدالت وکلا کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیرینے موقف دیتے ہوئے کہا کہ میں اللہ اور اس کے نبی کی قسم کھا کرکہتا ہوں میں نے حلف کی پاسداری کی ہے۔ میں اس کیس میں متاثرہ فریق ہوں۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ ہم انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہیں میں نا انصافی نہیں کرسکتا ہوں۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے موقف دیا کہ میں نے کوئی ٹاٹی نہیں کی، کسی سیکٹر کمانڈر کے کہنے پر فیصلے نہیں کیئے۔ مجھے فریق بناکر میرا موقف سن لیں۔ فریقین کے وکلا نے موقف اپنایا کہ پہلے کیس میں ہمارے اعتراضات کا فیصلہ کریں بعد میں قابل سماعت کا فیصلہ کریں۔ فریقین کے وکلا عدالتی کارروائی چھوڑ کر چلے گئے۔ تمام درخواستگزاروں کے وکلا کمرہ چھوڑ کر چلے گئے۔ عدالت نے تمام درخواستیں عدم پیروی پر خارج کردیں۔
