سندھ ہائیکورٹ نے ایس آئی یو اہلکاروں کی جانب سے شہری مشتاق علی شاہ کے اغوا اور تاوان طلب کرنے کیخلاف ایڈووکیٹ جنرل، پراسکیوٹر جنرل سندھ ودیگرکو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3نومبر تک جواب طلب کرلیاہیسندھ ہائیکورٹ میں ایس آئی یو اہلکاروں کی جانب سے شہری مشتاق علی شاہ کے اغوا اور تاوان طلب کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کی وکیل بشرا عباس ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ 24 اکتوبر کی شام کو اورنگی ٹائون سے ایس آئی یو پولیس اہلکاروں اور کچھ پرائیویٹ افراد نے اغوا کیا۔
اغوا کرنے کے بعد ایس آئی یو سینٹر کے پرائیویٹ ٹارچر سیل میں رکھا گیا۔
درخواستگزار کو جانے سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی اور 20 لاکھ تاوان طلب کیا گیا۔ کچھ روز قبل بھی ایس آئی یو کی حراست میں نوجوان عرفان بلوچ کی ہلاکت ہوئی ہے۔
آئی جی سندھ کو واقعے کی انکوائری کا حکم دیا جائے۔
محکمہ داخلہ سندھ سے ایس آئی یو کی تشکیل سے متعلق جواب بھی طلب کیا جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل، پراسکیوٹر جنرل سندھ، ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر، ایس ایس پی ایس آئی یو و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔
عدالت نے فریقین سے 3 نومبر تک جواب بھی طلب کیا ہے


