سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا طالب علم غنی امان چانڈیو کی بازیابی سے متعلق درخواست پرآئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14نومبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔
جمعرات کوسندھ ہائیکورٹ میں لاپتا طالب علم غنی امان چانڈیو کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 18 اکتوبر کی شام کو غنی امان کو شارع قائدین پر قائم ہسپتال سے اٹھا لیا گیا۔
غنی امان چانڈیو اپنے جڑواں بچوں کے علاج کیلئے ہسپتال میں تھا۔
قانون نافذ کرنے ادارے کے اہلکار اور کچھ سادہ لباس میں لوگ روم کے اندر داخل ہوئے۔ غنی امان چانڈیو کے دو نومولود جڑواں بچے زیر علاج ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ غنی امان چانڈیو کو فوری بازیاب کرایا جائے۔
عدالت نے آئی جی سندھ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 14 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔
درخواست لاپتا نوجوان غنی امان کی بہن کی جانب دے دائر کی ہے، جس میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت، آئی جی سندھ و دیگر فریق بنایا گیا ہے


