وفاقی وزیر بحری امورمحمد جنید انوار چودھری سے رومانیہ کے سفیر ڈاکٹر ڈین سٹوئینسکیو نے ملاقات کی ۔
ملاقات میںکراچی پورٹ اور رومانیہ کی پورٹ آف کونستانتہ کے درمیان لاجسٹکس، تجارتی امداد اور ریجنل کنیکٹی ویٹی سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کیاگیا۔
قائم مقام چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان عابد بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیر بحری امور نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان گلوبل میری ٹائم تجارت کے حوالے جامع رول ادا کرنا چاہتا ہے اور بذریعہ روابط مڈل ایسٹ، سینٹرل ایشیا، مشرقی یورپ اور افریقی ممالک کے ساتھ جڑنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پورٹ آف کونستانتہ کے ساتھ تجارتی فروغ کے حوالے سے جڑ کر یورپین مارکیٹ میں رسائی سے اپنی بلیو معیشت کو فروغ دینے جیسے عوامل کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔جنید چودھری نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان بندرگاہوں کی تعداد 3 سے بڑھا کر 6 کرنا چاہتا ہے تاکہ 2047 میں بندرگاہیں اپنی مکمل استعداد کے مطابق فنکشنل ہو سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میری ٹائم انفرا سٹرکچر کی مضبوطی اور روابط کی بحالی سے ہی پاکستان ایک اہم انڈسٹریل اور تجارتی ہب بن سکتا ہے۔اس موقع پر استعداد بڑھانے کے حوالے سے ٹریننگ اور ایکسچینج پروگرام دونوں ممالک کے درمیان قائم کرکے میری ٹائم سیفٹی، پورٹ آپریشنز، ماحولیات منیجمنٹ اور ڈیجیٹل لاجسٹکس کے حوالے دونوں نے تبادلہ خیال کیاگیا۔
وزیر بحری امور نے مزید کہا کہ محنتی دسترس رکھنے والی ورک فورس کے حصول سے مستقبل کے پورٹ سسٹم کے نظام کو سنبھالنا ہی دراصل پاکستان کے ماڈرن بننے کے پلان کا اہم جز ہے۔اس موقع پررومانیہ کے سفیر سٹوئنسکیو نے پاکستان کی برآمدات کی کوالٹی کی تعریف کی اور کہا کہ رومانیہ پاکستان سے سپورٹس گڈز، سرجیکل انٹرومنٹ اور ایگریکلچر پراڈکٹس کی درآمدات کا خواہاں ہے۔
انہوں نے رومانیہ کی جانب معاشی اور ڈپلومیٹک تعلقات کو بڑھانے کا اور دفعہ عندیہ دیا اور کہا کہ میری ٹائم کو آپریشن ہی ایک پریکٹیکل طریقہ ہے ریجنل انٹیگریشن میں اضافے اور باہمی خوشحالی کے حصول کے لئے۔
اس موقع پر دوران گفتگو نجی سیکٹر کی شمولیت اور پورٹ انفراسٹرکچر میں انوایسٹمنٹ کا بھی تذکرہ رہا۔
اس موقع پر دونوں طرف سے نء تجارتی راہداریوں کے کھلنے سے پاکستان کی ریجنل میری ٹائم ہب کی حیثیت مزید مستحکم ہوگی۔
اس موقع پر جنید چودھری نے رومانیہ جیسے یورپین ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات سے پاکستان کی برآمدات فروغ حاصل ہوگا جس سے ریجنل استحکام کے ذریعے معاشی سرگرمیوں اور جدت میں اضافہ ہوگا۔
دوطرفہ طور پر معاشی، تعلیمی اور کلچر سیکٹر میں تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس سے امید کی جاتی ہے کہ پاکستان اور رومانیہ کے درمیان بہترین پارٹنر شپ قائم ہو سکے گا


