For Ads contact updatekarachi54@gmail.com
For Ads contact updatekarachi54@gmail.com
advertise 2advertise 1

وفاقی محتسب فوزیہ وقار کا آگاہی سیمینار سیخطاب،مساوات اور محفوظ ماحول پر زور

وفاقی محتسب برائے جنسی ہراسانی سے تحفظ برسرِ روزگار خواتین فوزیہ وقار نے جمعرات کوپاکستان انسٹیٹیوٹ آف ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کراچی میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مساوات، وقارِ کار، اور محفوظ کارگاہوں کی اہمیت پر زور دیا۔مہمانِ خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے فوزیہ وقار نے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں مرد، خواتین اور خواجہ سرا کے لیے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور کسی کو بھی کسی بھی نوعیت کی تذلیل یا امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہراسانی نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسان کے وقار کو بھی مجروح کرتی ہے۔

 محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ ہر فرد بلا خوف، تعصب اور امتیاز کے اپنا کردار ادا کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو آزادانہ اور محفوظ طریقے سے کام کرنے کے مواقع فراہم کرنے سے پاکستان کی معاشی ترقی میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

- Advertisement -
advertise 2advertise 1

ان کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں خواتین کی فعال شمولیت سے ملک کی مجموعی آمدنی میں 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔

خواتین کی شمولیت کو فروغ دینا محض مساوات کا تقاضا نہیں، بلکہ یہ قومی ترقی میں سرمایہ کاری ہے،” انہوں نے کہا۔

محترمہ وقار نے زور دیا کہ کام کی جگہوں ہراسانی کا مفہوم صرف جنسی بدسلوکی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ہر قسم کا امتیازی سلوک اور تعصب شامل ہے۔

 انہوں نے تعلیم، روزگار اور قیادت کے مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔سیمینار کے دوران محترمہ سبیکہ شاہ، ریجنل ہیڈ فوسپا کراچی، نے تحفظِ خواتین برائے ہراسانی برسرِ روزگار ایکٹ 2010 پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔

انہوں نے ہراسانی کی تعریف، شکایات درج کرانے کے طریقہ کار اور اپنے حقوق سے آگاہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ اداروں میں جواب دہی کا نظام مزید مثر بنایا جا سکے۔تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر پی آئی ٹی ایچ ایم، نیاز علی ملکانی نے محترمہ فوزیہ وقار کو خواتین کے حقوق، مساوات اور محفوظ و باوقار ماحول کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی

- Advertisement -
advertise 2advertise 1
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے