کراچی (ویب ڈیسک):سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ریٹائرڈ ملازم کی پینشن میں اضافہ نہ کرنے کے خلاف درخواست پر درخواست گزار کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کردی
سندھ ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار محمد اقبال نے موقف اختیار کیا کہ تین برسوں سے حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 سے 50 فیصد اضافہ کررہی ہے، حکومت ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں صرف 15 سے 20 فیصد اضافہ کرتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس یوسف علی سعید نے استفسار کیا کہ پینشن میں اضافہ نہ کرنا کونسے قانون کی خلاف ورزی ہے؟ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ پینشن میں اضافہ نہ کرنا حکومت کاریٹائرڈ ملازمین سے امتیازی سلوک ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کون سے ریگولیشن کی خلاف ورزی ہورہی ہے؟
درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ انسانی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے، عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں، درخواست کے ساتھ سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے گیارہ فیصلے منسلک ہیں، آئی ایم ایف کے دباؤ کا بہانہ بنا کر پینشن نہیں بڑھائی جارہی ہے دوسری طرف وزراء اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ تیاری کرکے آئیں درخواست کو سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ عدالت نے درخواست گزار کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کردی۔


